حدیث نمبر: 10253
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مُطِرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَرَجَ فَحَسَرَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ الْمَطَرُ قَالَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا قَالَ لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں بارش ہوئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے گئے، (اپنے جسم کے بعض حصے سے) کپڑا ہٹایا،یہاں تک کہ اس حصے پر بارش کا پانی لگا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیونکہ یہ اپنے ربّ کی طرف سے نئی نئی آئی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … یعنی اللہ تعالیٰ ابھی ابھی اس بارش کو ایجاد کر کے نازل کر رہا ہے، جبکہ بارش رحمت ہے، اس لیے اس انداز میں تبرک حاصل کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10253
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 898 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12392»