الفتح الربانی
كتاب خلق العالم— کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغَيْمِ وَالْمَطْرِ وَالْبَرَدِ وَ زَمَنِ الشَّتَاءِ باب: بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
حدیث نمبر: 10252
عَنْ مُعَاوِيَةَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ النَّاسُ مُجْدَبِينَ فَيَنْزِلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِمْ رِزْقًا مِنْ رِزْقِهِ فَيُصْبِحُونَ مُشْرِكِينَ فَقِيلَ لَهُ وَكَيْفَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ قحط زدہ ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (بارش کی صورت میں) اپنا رزق نازل کرتا ہے تو وہ مشرک بن جاتے ہیں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ کہتے ہیں کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بارش اللہ تعالیٰ کے حکم اور مشیت سے نازل ہوتی ہے، اس میں کسی غیر کی رضا یا عدم رضا کا کوئی دخل نہیں ہے، جو شخص اس بارش کے نزول کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرے گا، وہ کافر ہو جائے گا۔