حدیث نمبر: 10250
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً تَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَدَخَلَ وَخَرَجَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا أَمْطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ مَا أَمِنْتُ أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ {فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ} إِلَى {رِيحٍ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ} [الأحقاف: 24]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بادل دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ بدل جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آنا جانا شروع کر دیتے تھے، جب بارش برسنا شروع ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ کیفیت چھٹ جاتی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس بارے میں کوئی امن نہیں ہے کہ ممکن ہے کہ یہ وہی چیز ہو، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہا: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖرِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔} پھر جب انھوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ وہ (عذاب) ہے، جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے ۔ (سورۂ احقاف: ۲۴)

وضاحت:
فوائد: … یہ آیت قوم ہود کے بارے میں ہے، وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ بارش آنے والی ہے، لیکن اس بادل کا انجام یہ نکلا کہ{ تُدَمِّرُکُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْالَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔} … جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کوئی چیز دیکھائی نہ دیتی تھی، اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ (سورۂ احقاف: ۲۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10250
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 3891 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25856»