الفتح الربانی
كتاب خلق العالم— کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغَيْمِ وَالْمَطْرِ وَالْبَرَدِ وَ زَمَنِ الشَّتَاءِ باب: بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً تَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَدَخَلَ وَخَرَجَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا أَمْطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ مَا أَمِنْتُ أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ {فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ} إِلَى {رِيحٍ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ} [الأحقاف: 24]۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بادل دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ بدل جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آنا جانا شروع کر دیتے تھے، جب بارش برسنا شروع ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ کیفیت چھٹ جاتی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس بارے میں کوئی امن نہیں ہے کہ ممکن ہے کہ یہ وہی چیز ہو، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہا: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖرِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔} پھر جب انھوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ وہ (عذاب) ہے، جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے ۔ (سورۂ احقاف: ۲۴)