الفتح الربانی
كتاب خلق العالم— کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّحَابِ وَالرَّعْدِ وَالرِّيَاحِ باب: بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان
حدیث نمبر: 10247
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ قَالَ فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَقَالَ هَذِهِ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِذَا هُوَ قَدْ مَاتَ مُنَافِقٌ عَظِيمٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُنَافِقِينَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، بڑی سخت ہوا چلی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کسی منافق کی موت کی وجہ سے ہے۔ پس جب ہم مدینہ میں آئے تو دیکھا کہ بڑے منافقوں میں سے ایک بڑا منافق مر چکا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۰۲۳۲ا، ۱۰۲۳۳) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نظام زمین پر ہونے والے موت و حیات اور خوشی و غمی کے واقعات سے متاثر نہیں ہوتا۔
اس حدیث میں جس ہوا کا ذکر ہے، یہ دراصل اللہ تعالیٰ کا کوئی لشکر تھا، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے یہ بتلانا چاہتے تھے کہ فلاں منافق مر گیا ہے، اس طرح سے اس ہوا کو اس کی موت کی علامت قرار دینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا۔
اس حدیث میں جس ہوا کا ذکر ہے، یہ دراصل اللہ تعالیٰ کا کوئی لشکر تھا، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے یہ بتلانا چاہتے تھے کہ فلاں منافق مر گیا ہے، اس طرح سے اس ہوا کو اس کی موت کی علامت قرار دینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا۔