حدیث نمبر: 10246
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ أَخَذَتِ النَّاسَ رِيحٌ بِطَرِيقِ مَكَّةَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَاجٌّ فَاشْتَدَّتْ عَلَيْهِمْ فَقَالَ عُمَرُ لِمَنْ حَوْلَهُ مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنِ الرِّيحِ فَلَمْ يُرْجِعُوا إِلَيْهِ شَيْئًا فَبَلَغَنِي الَّذِي سَأَلَ عَنْهُ عُمَرُ مِنْ ذَلِكَ فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنِ الرِّيحِ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَلَا تَسُبُّوهَا وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا وَاسْتَعِيذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگ مکہ مکرمہ کے راستے میں تھے، ہوا چلنے لگی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حج کرنے جا رہے تھے، ہوا سخت ہو گئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے پوچھا: کون ہمیں ہوا کے بارے میں بیان کرے گا؟ لوگوں نے کوئی جواب نہ دیا، جب مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سوال کا علم ہوا تو میں نے اپنی سواری کو تیزی سے چلایا،یہاں تک کہ ان کو پا لیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ہوا کے بارے میں سوال کیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ہوا کی اصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ رحمت کے ساتھ بھی آتی ہے اور عذاب کے ساتھ بھی، پس جب تم اس کو دیکھو تو اس کو برا بھلا مت کہا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کیا کرو اور اس کے شرّ سے پناہ طلب کیا کرو۔

وضاحت:
فوائد: … ہوا اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے، اس کے اندر خیر بھی ہوتی ہے اور شرّ بھی، بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند چیز کو برا بھلا نہ کہے، بلکہ اس سے خیر کا سوال کرے اور اس کے شرّ کی پناہ طلب کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10246
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 5097 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7619»