حدیث نمبر: 10243
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَقْبَلَتْ يَهُودٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّا نَسْأَلُكَ عَنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالُوا أَخْبِرْنَا مَا هَذَا الرَّعْدُ قَالَ مَلَكٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ بِيَدِهِ أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ يَسُوقُهُ حَيْثُ أَمَرَ اللَّهُ قَالُوا فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي نَسْمَعُ قَالَ صَوْتُهُ قَالُوا صَدَقْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودی لوگ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اے ابوالقاسم! ہم آپ سے پانچ اشیاء کے بارے میں سوال کریں گے، … … ، پھر انھوں نے پوری حدیث ذکر کی، اس میں یہ بھی تھا: انھوں نے کہا: آپ ہمیں یہ بتائیں کہ کڑک کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کو بادلوں کا نظام سپرد کیا گیا ہے، اس کے ہاتھ میںآگ کی ایک تلوار ہوتی ہے، وہ اس کے ذریعے بادلوں کو ڈانٹتا ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق ان کو چلا کر لے جاتا ہے۔ انھوں نے کہا: ہم جو آواز سنتے ہیں،یہ کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی کی آواز ہوتی ہے۔ یہودیوں نے کہا: آپ نے سچ کہا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10243
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قصة الرعد، فقد تفرد بھا بُكير بن شھاب، ھو لم يرو عنه سوي اثنين، وقال ابو حاتم: شيخ، وقال الذھبي في الميزان : عراقي صدوق، أخرجه الترمذي: 3117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2483»