الفتح الربانی
كتاب خلق العالم— کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّحَابِ وَالرَّعْدِ وَالرِّيَاحِ باب: بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي الْمَسْجِدِ فَمَرَّ شَيْخٌ جَمِيلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ وَفِي أُذُنَيْهِ صَمَمٌ أَوْ قَالَ وَقْرٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِ حُمَيْدٌ فَلَمَّا أَقْبَلَ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَوْسِعْ لَهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الشَّيْخُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنْشِئُ السَّحَابَ فَيَنْطِقُ أَحْسَنَ النُّطْقِ وَيَضْحَكُ أَحْسَنَ الضِّحْكِ۔ سعد کہتے ہیں: میں حمید بن عبد الرحمن کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے بنو غفار کے ایک خوبصورت بزرگ کا گزر ہوا، ان کے کانوں میں بہرا پن تھا، جب حمید نے ان کی طرف پیغام بھیجا تو وہ متوجہ ہوئے، اِدھر حمید نے کہا: میرے بھتیجے! میرے اور اپنے درمیان ان کے لیے وسعت پیدا کرو، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں، اس بزرگ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ بادل کو پیدا کرتا ہے، پس وہ بہترین انداز میں بولتا ہے اور بہترین انداز میں ہنستا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْہِنَّ وَ اِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖوَلٰکِنْلَّاتَفْقَہُوْنَتَسْبِیْحَہُمْ اِنَّہٗکَانَحَلِیْمًا غَفُوْرًا۔} … ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔ وہ بڑا بردبار اور بہت بخشنے والا ہے۔ (سورۂ بنی اسرائیل: ۴۴)