الفتح الربانی
كتاب خلق العالم— کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَالْكَوْاكِبِ باب: سورج، چاند اور ستاروں کا بیان
حدیث نمبر: 10237
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ النَّجْمُ ذَا صَبَاحٍ رُفِعَتِ الْعَاهَةُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب (ثریا) ستارہ صبح کے وقت طلوع ہوتا ہے، تو آفت ختم کر دی جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … عثمان بن عبد اللہ بن سراقہ کہتے ہیں: ہم لوگ سفر میں تھے، جبکہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ہمارے ساتھ تھے، میں نے ان سے پھلوں کی بیع کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آفت کے اٹھ جانے تک پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کون سی چیز آفت کو دور کرتی ہے؟ انھوں نے کہا: ثریا ستارے کا طلوع ہو جانا۔ (صحیح بخاری: ۱۴۸۶، صحیح مسلم: ۱۵۳۴، واللفظ لاحمد)
حافظ ابن حجر نے کہا: ثریا ایک ستارہ ہے، یہ موسم گرم کے شروع میں صبح کے وقت طلوع ہوتا ہے، اس وقت حجاز کی سرزمین میں شدید گرمی کا اور پھلوں کے پکنے کا موسم ہوتا ہے، جو حقیقت معتبر ہے، وہ تو پھلوں کا پکنا ہی ہے، البتہ اس کی علامت ثریا ستارہ ہے۔
حافظ ابن حجر نے کہا: ثریا ایک ستارہ ہے، یہ موسم گرم کے شروع میں صبح کے وقت طلوع ہوتا ہے، اس وقت حجاز کی سرزمین میں شدید گرمی کا اور پھلوں کے پکنے کا موسم ہوتا ہے، جو حقیقت معتبر ہے، وہ تو پھلوں کا پکنا ہی ہے، البتہ اس کی علامت ثریا ستارہ ہے۔