الفتح الربانی
كتاب خلق العالم— کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَالْكَوْاكِبِ باب: سورج، چاند اور ستاروں کا بیان
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَغِيبُ الشَّمْسُ تَحْتَ الْعَرْشِ فَيُؤْذَنُ لَهَا فَتَرْجِعُ فَإِذَا كَانَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةُ الَّتِي تَطْلَعُ صَبِيحَتَهَا مِنَ الْمَغْرِبِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهَا فَإِذَا أَصْبَحَتْ قِيلَ لَهَا اطْلَعِي مِنْ مَكَانِكِ ثُمَّ قَرَأَ {هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ} [سورة الأنعام: 158]۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج عرش کے نیچے غروب ہوتا ہے، پھر اس کو اجازت دی جاتی ہے، پس وہ لوٹ آتا ہے، جب وہ رات ہو گی، جس کی صبح کو سورج نے مغرب سے طلوع ہونا ہو گا، اس کو اجازت نہیں دی جائے گی، پس جب وہ صبح کرے گا تو اس سے کہا جائے گا: تو اسی جگہ سے طلوع ہو، جہاں سے غروب ہوا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: کیایہ لوگ صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیںیا ان کے پاس آپ کا ربّ آ ئے یا آپ کے رب کی کوئی (بڑی) نشانی آئے۔ (سورۂ انعام: ۱۵۸)
ابو العالیہ رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: آسمان میں موجود ہر ستارہ، سورج اور چاند غروب ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے، پھر اس کو آگے بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ یہ بات بھی معلوم ہے کہ سورج ہر وقت فلک میں رہتا ہے، پس یہ ہر وقت فلک میں تسبیح بیان کرتا ہے اور ہر وقت سجدہ کرتا ہے اور ہر رات کو اجازت طلب کرتا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے، وہ اس طرح سجدہ کرتا ہے، جیسا اس کے لیے مناسب ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی و انکساری کا اظہار کرتا ہے۔
ذہن نشین رہے کہ سورج ہر گھڑی میںکسی علاقے کے لیے غروب ہو رہا ہے اور کسی علاقے کے لیے طلوع ہو رہا ہے، سو یہ ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کر رہا ہے اور آگے چلنے کی اجازت لے رہا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے رسالے قنوت الأشیاء کلھا للہ میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کییہ حدیث ذکر کی اور کہا: پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں اس چیز کی خبر دی ہے کہ سورج غروب ہونے کے بعد سجدہ کرتا ہے اور اجازت لیتا ہے۔ پھر انھوں نے ابو العالیہ کا مذکورہ بالا قول پیش کیا۔