حدیث نمبر: 10233
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِنَحْوِهِ وَفِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ وَإِلَى الصَّدَقَةِ وَإِلَى ذِكْرِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: اے لوگو! بیشک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوںمیں سے دو نشانیاں ہیں، ان کو کسی کی موت کی وجہ سے گرہن لگتا ہے نہ کسی کی زندگی سے، جب تم اس چیز کو دیکھو تو نماز، صدقہ اور اللہ کے ذکر کی طرف پناہ حاصل کرو۔

وضاحت:
فوائد: … لیکن اس طویل حدیث کے جو الفاظ اِس متن میں مذکور ہیں، وہ دوسرے شواہد کی بنا پر صحیح ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا نظام زمین پر ہونے والے واقعات سے متأثر نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10233
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ھذا حديث طويل، وھو ضعيف بھذه السياقة، فقد انفرد به فليح الخزاعي وھو ممن لا يحتمل تفرده، فقد تكلم بعض الأئمة في حفظه، ومحمد بن عباد لم يذكروا له سماعا من اسماء بنت ابي بكر، أخرجه ابن خزيمة: 1399، والطبراني في الكبير : 24/ 240 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26992 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27532»