حدیث نمبر: 10232
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي صِفَةِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ قَالَتْ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَكَبِّرُوا وَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کسوف کی کیفیت بیان کرتی ہوئی کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا، حمدو ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: بیشک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، ان کو نہ کسی کی موت کی وجہ سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے، پس جب تم ان کو دیکھو تو اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو، اللہ تعالیٰ کو پکارو، نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10232
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1044، 5221، ومسلم: 901 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25826»