الفتح الربانی
كتاب خلق العالم— کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَالْكَوْاكِبِ باب: سورج، چاند اور ستاروں کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي صِفَةِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ قَالَتْ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَكَبِّرُوا وَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا الْحَدِيثَ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کسوف کی کیفیت بیان کرتی ہوئی کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا، حمدو ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: بیشک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، ان کو نہ کسی کی موت کی وجہ سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے، پس جب تم ان کو دیکھو تو اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو، اللہ تعالیٰ کو پکارو، نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔