الفتح الربانی
كتاب خلق العالم— کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِحَارِ وَالْأَنْهَارِ باب: سمندروں اور دریاؤں کا بیان
حدیث نمبر: 10230
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَحْرُ هُوَ جَهَنَّمُ قَالُوا لِيَعْلَى فَقَالَ أَلَا تَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا} [سورة الكهف: 29] قَالَ لَا وَالَّذِي نَفْسُ يَعْلَى بِيَدِهِ لَا أَدْخُلُهَا أَبَدًا حَتَّى أُعْرَضَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يُصِيبُنِي مِنْهَا قَطْرَةٌ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنایعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سمندر جہنم ہی ہے۔ لوگوں نے سیدنایعلی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ظالموں کے لیے ہم نے وہ آگ تیار کر رکھی ہے، جس کی قناتیں انہیں گھیر لیں گی۔ (سورۂ کہف: ۲۹) انھوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میںیعلی کی جان ہے! میں اس میں کبھی بھی داخل نہیں ہوں گا، یہاں تک کہ مجھے اللہ تعالیٰ پر پیش کیا جائے اور اس کا ایک قطرہ مجھ تک نہیں پہنچ سکتا، یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ سے جا ملوں۔
وضاحت:
فوائد: … سمندر کو جہنم قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ سمندری سفر بڑے خطرے سے خالی نہیں ہے، جب سمندر کے بیچ میں کوئی مسئلہ بن جائے تو آدمی اپنے آپ کو بالکل بے سہارا سمجھنے لگتا ہے، لہٰذا حج یا اس قسم کی اہم ضرورت کے لیے سمندری سفر کرنا چاہیے، وگرنہ نہیں۔