حدیث نمبر: 10228
عَنْ صَبَّاحِ بْنِ أَشْرَسَ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْمَدِّ وَالْجَزْرِ فَقَالَ إِنَّ مَلَكًا مُوَكَّلًا بِقَامُوسِ الْبَحْرِ فَإِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فَاضَتْ وَإِذَا رَفَعَهَا غَاضَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ صباح بن اشرس سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مد و جزر کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: ایک فرشتے کو سمندر کے درمیانے اور بڑے حصے پر مقرر کیا گیا ہے ، جب وہ اپنی ٹانگ اس میں رکھتا ہے تو پانی زیادہ ہو جاتا ہے اور جب وہ اس کو اٹھا لیتا ہے تو پانی کم ہو جاتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … مشاہدہ یہ ہے کہ چاند کی وجہ سے سمندر میں مدّ و جزر کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10228
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، صبّاح مجھول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23626»