حدیث نمبر: 10227
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيْحَانُ وَجَيْحَانُ وَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ وَكُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیحان، جیحان، فرات اور نیل ساری جنت کی نہروں میں سے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: جس طرح انسان کی اصل جنت سے ہے، اسی طرح ممکن ہے کہ دریائے نیل اور دریائے فرات کی اصل جنت سے ہو، جیسا کہ ارشادِ نبوی ہے: ((فُجِّرَتْ اَرْبَعَۃُ اَنْھَارٍ مِنَ الْجَنَّۃِ: اَلْفَرَاتُ وَالنَّیْلُ، وَالسَّیْحَانُ وَجَیْحَانُ۔)) (مسند احمد) … چار نہریں جنت سے پھوٹتی ہیں: فرات، نیل، سیحان، جیحان۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ دریا معروف چشموں سے پھوٹ رہے ہیں۔اس تعارض کو یوں دور کیا جائے گا کہ حدیث کا تعلق غیبی امور سے ہے، جس پر ایمان لانااور اس کی اطلاع دینے والے کے سامنے سر تسلیمِ خم کرنا واجب ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَـلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} (سورۂ نسا: ۶۵) … سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں، ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10227
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7873»