حدیث نمبر: 10218
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهُوَ يُخَاصِمُ فِي أَرْضٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبِ الْأَرْضَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرْضِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، جبکہ وہ زمین کے بارے میں کوئی جھگڑا کر رہے تھے، سیدہ نے کہا: اے ابو سلمہ! زمین سے بچ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کی ایک بالشت کے بقدر زمین ظلم سے اپنے قبضہ میں لے لی، اس کو قیامت کے روز سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ یَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَہُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیْرٌ وَّاَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عِلْمًا } … اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مانند۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ بیشک اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ بے شک اللہ نے یقینا ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔ (سورۂ طلاق: ۱۲)
معلوم ہوا کہ سات آسمانوں کی طرح سات زمینیں ہیں۔
قدیم لوگوں نے روئے زمین کو سات حصوںپر تقسیم کیا تھا، ہر حصے کو اقلیم کہتے تھے، بعض نے سات زمینوں سے یہ ہفت اقلیم مراد لیے ہیں، بعد میں ان کو سات براعظم کہا گیا،یہ قول راجح معلوم ہوتا ہے، اس کی دو وجوہات ہیں: (۱)قرآن و حدیث میں اکثر و بیشتر السموات کے مقابلے میں لفظ الارض مستعمل ہوا، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ زمین دراصل ایک ٹکڑا ہی ہے۔ (۲) زمین ہتھیالینے والے کو سات زمینوں کی مٹی کھود کر اس کا طوق پہنایا جائے گا، اور اس زمین میں ساتوں زمینیں موجود ہیں۔
اگر سات زمینوں سے مراد سات زمینیں ہی لیں کہ وہ آسمانوں کی طرح الگ الگ ہیں تو ان میں سے ایک زمین وہ ہے، جس پر ہم رہ رہیں ہیں، پھر باقی چھ زمینیں کہاں ہیں، نیز ان پر کون سی مخلوق رہتی ہے، ان سوالات کو اللہ تعالیٰ کے سپر کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10218
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24857»