حدیث نمبر: 10215
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّتْ سَحَابَةٌ فَقَالَ ((أَتَدْرُونَ مَا هَذَا)) قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((الْعَنَانُ وَرَوَايَا الْأَرْضِ يَسُوقُهُ اللَّهُ إِلَى مَنْ لَا يَشْكُرُهُ مِنْ عِبَادِهِ وَلَا يَدْعُونَهُ أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ فَوْقَكُمْ)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((الرَّقِيعُ مَوْجٌ مَكْفُوفٌ وَسَقْفٌ مَحْفُوظٌ أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ أَتَدْرُونَ مَا الَّتِي فَوْقَهَا)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((سَمَاءٌ أُخْرَى أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهَا وَبَيْنَهَا)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ)) حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ثُمَّ قَالَ ((أَتَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((الْعَرْشُ أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ)) ثُمَّ قَالَ ((أَتَدْرُونَ مَا هَذَا تَحْتَكُمْ)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((أَرْضٌ أَتَدْرُونَ مَا تَحْتَهَا)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((أَرْضٌ أُخْرَى أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهَا وَبَيْنَهَا)) قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ)) حَتَّى عَدَّ سَبْعَ أَرَضِينَ ثُمَّ قَالَ ((وَأَيْمُ اللَّهِ لَوْ دَلَّيْتُمْ أَحَدَكُمْ بِحَبْلٍ إِلَى الْأَرْضِ السُّفْلَى السَّابِعَةِ لَهَبَطَ ثُمَّ قَرَأَ {هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک بدلی گزری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بدلی ہے اور زمین کو سیراب کرنے والی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ان بندوں کی طرف چلائے جا رہا ہے، جو نہ اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور نہ اس کو پکارتے ہیں، اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آسمان ہے، یہ ایک موج ہے، جس کو روک دیا گیا ہے اور محفوظ چھت ہے، کیا تم جانتے ہوں کہ اس کے اور تمہارے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ سو برسوں کی مسافت ہے، کیا تم جانتے ہو کہ اُس کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اور آسمان ہے، کیا تم جانتے ہو کہ اِس آسمان اور اُس آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات آسمانوں کو شمار کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ ساتویں آسمان کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عرش ہے، کیا تم جانتے ہو کہ عرش اور ساتویں آسمان کے مابین کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ سو سالوں کی مسافت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ تمہارے نیچے کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین ہے، اچھا کیا تمہیں اس چیز کا علم ہے کہ اس کے نیچے کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اور زمین ہے، کیا تم جانتے ہو کہ اُس کے نیچے کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اور زمین ہے، کیا تم جانتے ہو کہ اِس زمین سے اُس زمین تک کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ سو برسوں کی مسافت ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات زمینیں شمار کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور اللہ کی قسم ہے کہ اگر تم ساتویں زمین تک رسی لٹکاؤ تو وہ ساتویں زمین سے جا لگے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: وہی پہلے ہے اور وہی پیچھے، وہی ظاہر ہے اور وہی مخفی، اور ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے۔ (سورۂ حدید: ۳)

وضاحت:
فوائد: … آسمانِ دنیا کا نام رَقِیْع ہے، ایک قول کے مطابق اس کا اطلاق ہر آسمان پر بھی ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10215
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الحكم بن عبد الملك مجمع علي ضعفه، وقتادة مدلس، وعنعن، والحسن البصري لم يسمع من ابي ھريرة أخرجه الترمذي: 3298 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8814»