الفتح الربانی
كتاب خلق العالم— کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب
بَابُ مَاوَرَدَ فِي خَلْقِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَوْجُودَنَان الْآن باب: اس چیز کا بیان کہ جنت اور جہنم کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ اب موجود ہیں
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دُعِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنَازَةِ غُلَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يُدْرِكِ الشَّرَّ وَلَمْ يَعْمَلْهُ قَالَ ((أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ))۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک انصاری بچے کی طرف بلایا گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے لیے خوشخبری ہے، یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اس نے نہ شرّ کو پایا اور نہ اس پر عمل کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اس کے علاوہ کوئی اور بات بھی کرنی ہے؟ بیشک اللہ تعالیٰ نے جنت کے لیے لوگوں کو اس وقت پیدا کیا، جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے، اسی طرح جہنم کے لیے لوگوں کا اس وقت تعین کر دیا، جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے۔