الفتح الربانی
كتاب خلق العالم— کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب
بَابُ أَوَّلِ الْمَخْلُوقَاتِ وَفِيهِ ذِكْرُ الْمَاءِ وَالْعَرْشِ وَاللَّوْحِ وَالْقَلْمِ باب: مخلوقات میں پہلی چیز کا بیان اور اس میںپانی، عرش، لوح محفوظ اور قلم کا ذکر ہو گا
حدیث نمبر: 10208
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَلَمَ ثُمَّ قَالَ لَهُ اكْتُبْ فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور پھر اس سے کہا: لکھ، پس وہ اسی گھڑی میں چلی اور قیامت تک ہونے والے امور لکھ دیئے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلی مخلوق قلم ہے، شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: کئی لوگوں کے دلوں میں یہ عقیدہ مضبوط ہوچکا ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور پیدا کیا، لیکنیہ عقیدہ بے بنیاد ہے او رعبد الرزاقl کی حدیث کی سند معروف نہیں ہے۔ نیز اس حدیث میں ان لوگوں کا بھی ردّ ہے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو پہلی مخلوق تصور کرتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس اس دعوی کی کوئی واضح نص موجود نہیں ہے، سب کچھ استنباط و اجتہاد کی روشنی میں کہا گیا۔
قلم کے پہلی مخلوق ہونے کے دلائل واضح ہیں، ایسی واضح نصوص کے موجودگی میں کسی دوسرے اجتہاد کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
ان احادیث کا یہ مطلب بیان کرنا کہ عرش کے بعد پہلی مخلوق قلم ہے، باطل ہے۔ اگر عرش کے اول المخلوق ہونے پر کوئی قطعی نص ہوتی تو ایسی تاویل کی گنجائش مل سکتی تھی۔
بعض فلسفی قسم کے لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ حوادث کی کوئی ابتدا نہیںہے اور ہر مخلوق سے پہلے کسی نہ کسی مخلوق کا وجود ضروری ہے۔
اگر اس نظریے کو درست تسلیم کر لیا جائے تو کسی چیز کو اول المخلوق نہیں کہا جا سکتا۔ جبکہ اس حدیث ِ مبارکہ میں ایسے لوگوں کا ردّ کیا گیا ہے اور قلم کو سب سے پہلی مخلوق قرار دے کر یہ ثابت کیا گیا کہ مخلوقات کی ایک ابتدا ہے، اس ابتدا سے پہلے مخلوق کا کوئی فرد موجود نہ تھا۔ (صحیحہ: ۱۳۳) یہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کہ وہ ازل سے ہے، ابد تک رہے گا، اس کی ابتدا ہے نہ انتہا۔
قلم کے پہلی مخلوق ہونے کے دلائل واضح ہیں، ایسی واضح نصوص کے موجودگی میں کسی دوسرے اجتہاد کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
ان احادیث کا یہ مطلب بیان کرنا کہ عرش کے بعد پہلی مخلوق قلم ہے، باطل ہے۔ اگر عرش کے اول المخلوق ہونے پر کوئی قطعی نص ہوتی تو ایسی تاویل کی گنجائش مل سکتی تھی۔
بعض فلسفی قسم کے لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ حوادث کی کوئی ابتدا نہیںہے اور ہر مخلوق سے پہلے کسی نہ کسی مخلوق کا وجود ضروری ہے۔
اگر اس نظریے کو درست تسلیم کر لیا جائے تو کسی چیز کو اول المخلوق نہیں کہا جا سکتا۔ جبکہ اس حدیث ِ مبارکہ میں ایسے لوگوں کا ردّ کیا گیا ہے اور قلم کو سب سے پہلی مخلوق قرار دے کر یہ ثابت کیا گیا کہ مخلوقات کی ایک ابتدا ہے، اس ابتدا سے پہلے مخلوق کا کوئی فرد موجود نہ تھا۔ (صحیحہ: ۱۳۳) یہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کہ وہ ازل سے ہے، ابد تک رہے گا، اس کی ابتدا ہے نہ انتہا۔