الفتح الربانی
كتاب التوبة— توبہ کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدَمِ قُنُوطِ الْمُوَحَدِينَ مِنْ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَفِيهِ بُشْرَى لِلْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ باب: اس چیز کا بیان کہ توحید پرستوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور اس میں امت ِ محمدیہ کے لیے خوشخبری ہے
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجُنَبِيِّ أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ وَعُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَفَرَغَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ قَضَاءِ الْخَلْقِ فَيَبْقَى رَجُلَانِ فَيُؤْمَرُ بِهِمَا إِلَى النَّارِ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمَا فَيَقُولُ الْجَبَّارُ تَعَالَى رُدُّوهُ فَيَرُدُّونَهُ قَالَ لَهُ لِمَ الْتَفَتَّ قَالَ إِنْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ قَالَ فَيُؤْمَرُ لَهُ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَقُولُ لَقَدْ أَعْطَانِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى إِنِّي لَوْ أَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مَا عِنْدِي شَيْئًا)) قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَهُ يُرَى السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ۔ سیدنا فضالہ بن عبادہ اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا اور اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے سے فارغ ہو جائے گا، تو دو بندے ابھی تک باقی کھڑے ہوں گے، ان کے بارے میں جہنم کا حکم دیا جائے گا، جب ان میں سے ایک پلٹ کر دیکھے گا تو جبّار تعالیٰ کہے گا: اس کو واپس لاؤ، پس فرشتے اس کو واپس لائیں گے، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: تو نے پلٹ کر کیوں دیکھا ہے؟ وہ کہے گا: مجھے تو یہ امید تھی کہ تو مجھے جنت میں داخل کرے گا، پس اس کے لیے جنت کا حکم دے دیا جائے گا، پھر وہ کہے گا: تحقیق اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ کچھ عطا کر دیا ہے کہ اگر میں جنتیوں کو کھانا کھلا دوں، تو اس سے میرے پاس جو کچھ ہے، اس میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب یہ بات ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر سرور نظر آ رہا تھا۔