حدیث نمبر: 10201
عَنْ أَبِي رَزِينٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((ضَحِكَ رَبُّنَا مِنْ قُنُوطِ عِبَادِهِ وَقُرْبِ غِيَرِهِ)) قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَيَضْحَكُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ((نَعَمْ)) قَالَ لَنْ نَعْدَمَ مِنْ رَبٍّ يَضْحَكُ خَيْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارا ربّ اس بات پر ہنستا ہے کہ اس کا بندہ ناامید ہو رہا ہوتا ہے، جبکہ اس کے حالات کی تبدیلی قریب ہوتی ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ربّ تعالیٰ بھی ہنستا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ہم ہنسنے والے ربّ کے ہاں خیر کو مفقود نہیں پائیں گے۔

وضاحت:
فوائد: … جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے معمولی آزمائش کو کچھ وقت کے لیے رفع نہیں کرتا تو خیر سے مایوسی اس پر غلبہ پانے لگتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہوتا ہے کہ اس بندے کے لیے خیر کا معاملہ قریب ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْاعَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ لَاتَقْنَطُوْامِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ} … کہہ دے اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ (سورۂ زمر: ۵۳)
مزید فرمایا: {وَلَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِنَّہٗلَایَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ۔} … اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک حقیقتیہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں۔ (سورۂ یوسف: ۸۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوبة / حدیث: 10201
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال وكيع بن حدس، أخرجه ابن ماجه: 181 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16288»