حدیث نمبر: 10200
عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ حَوْصٍ الْيَمَانِيِّ قَالَ قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا يَمَامِيُّ لَا تَقُولَنَّ لِرَجُلٍ وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنَّ هَذِهِ الْكَلِمَةَ يَقُولُهَا أَحَدُنَا لِأَخِيهِ وَصَاحِبِهِ إِذَا غَضِبَ قَالَ فَلَا تَقُلْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلَانِ كَانَ أَحَدُهُمَا مُجْتَهِدًا فِي الْعِبَادَةِ وَكَانَ الْآخَرُ مُسْرِفًا عَلَى نَفْسِهِ فَكَانَا مُتَآخِيَيْنِ فَكَانَ الْمُجْتَهِدُ لَا يَزَالُ يَرَى الْآخَرَ عَلَى ذَنْبٍ فَيَقُولُ يَا هَذَا أَقْصِرْ فَيَقُولُ خَلِّنِي وَرَبِّي أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا قَالَ إِلَى أَنْ رَآهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ اسْتَعْظَمَهُ فَقَالَ لَهُ وَيْحَكَ أَقْصِرْ قَالَ خَلِّنِي وَرَبِّي أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا قَالَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا قَالَ أَحَدُهُمَا قَالَ فَبَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِمَا مَلَكًا فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا وَاجْتَمَعَا فَقَالَ لِلْمُذْنِبِ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي وَقَالَ لِلْآخَرِ أَكُنْتَ بِي عَالِمًا أَكُنْتَ عَلَى مَا فِي يَدَيَّ خَازِنًا اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ لَتَكَلَّمَ بِالْكَلِمَةِ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ضمضم بن ہوس یمانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: اے یمامی! تو نے کسی آدمی کو ہر گز اس طرح نہیں کہنا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تجھے نہیں بخشے گا، یا اللہ تعالیٰ تجھ کو کبھی بھی جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ میں نے کہا: اے ابوہریرہ! ہم میں جب کوئی آدمی ناراض ہوتا ہے تو وہ اپنے بھائی اور ساتھی پر یہ جملے کستا ہے، انھوں نے کہا: پس تو نے اس طرح نہیں کہنا، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بنواسرائیل میں دو آدمی تھے، ان دونوں میں بھائی چارہ تھا، ان میں سے ایک عبادت میں بڑی محنت کرنے والا تھا اور دوسرا اپنی جان پر زیادتی کرنے والا تھا، عبادت گزار دوسرے آدمی کو گناہوں میںملوث دیکھتا رہتا تھا اور اس کو کہتا تھا: او فلاں! باز آ جا، لیکن وہ کہتا: تو رہنے دے مجھے اور میرے ربّ کو، کیا تجھے مجھ پر نگہبان بنا کر بھیجا گیا ہے، ایک دن اس عبادت گزار نے اس کو ایسے گناہ میں ملوث پایا، جس کو اس نے بڑا سمجھا، پس اس نے اس سے کہا: او تو ہلاک ہو جائے، باز آ جا، اس نے حسب ِ روٹین کہا: تو رہنے دے مجھے اور میرے ربّ کو، کیا تجھے مجھ پر نگہبان بنا کر بھیجا گیا ہے، لیکن اس بار اس نے یہ بھی کہہ دیا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تجھے نہیں بخشے گا، یا اللہ تعالیٰ تجھے کبھی بھی جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی طرف فرشتے کو بھیجا اور ان کی روحیں قبض کر لیں، پس وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ہاں جمع ہو گئے، اللہ تعالیٰ نے گنہگار سے کہا: تو جا اور میری رحمت کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جا اور دوسرے سے کہا: کیا تو میرے بارے میںجاننے والا تھا؟ میرے ہاتھ میں جو کچھ ہے، کیا تو اس کا خزانچی تھا، لے جاؤ اس کو آگ کی طرف۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو القاسم ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے! اس آدمی نے ایسی بات کر دی کہ جس نے اس کی دنیا اور آخرت کو تباہ کر دیا۔

وضاحت:
فوائد: … اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ہر شریعت میں لوگوں سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ اعمالِ صالحہ کا اہتمام کریں اور گناہ والے امور سے اجتناب کریں، اس حدیث میں دو اہم باتوں کا ذکر ہے، ایک اللہ تعالیٰ گناہوں کو بخش سکتا ہے، جیسا کہ اس گنہگار کو بخش دیا تھا، دوسرا زبان کے استعمال میں محتاط رہنا چاہیے، کسی گنہگار کو یہ کہہ دینا کہ اللہ تعالیٰ اس کو نہیں بخشے گا، یہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑی جرأت ہے، اس ایک بول نے نیکوکار کی نیکیوں کو اجاڑ دیا۔
کوئی شخص اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ استدلال نہ کرنے پائے کہ برائیاں کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ نہیں تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوبة / حدیث: 10200
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4901 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8292 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8275»