حدیث نمبر: 102
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ قِلَّةُ الْكَلَامِ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ) تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے کے حسنِ اسلام میں سے یہ ہے کہ جس چیز میں اس کا کوئی مقصد نہ ہو، وہ اس کے بارے میں باتیں کم کرے۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”جس چیز میں اس کا کوئی مقصد نہ ہو، وہ اسے چھوڑ دے۔“

وضاحت:
فوائد: … یہ ایک جامع حدیث ہے اور نبیٔ کریم کے صاحب ِ جوامع الکلم ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: اہل علم نے اس حدیث کو بڑی شان و عظمت والا قرار دیا اور اس کو ان چار فرمودات ِ نبویہ میں شمار کیا، جن پر اسلام کے احکام سہارا لیتے ہیں، بعض نے اس حدیث کو اسلام کا تیسرا حصہ قرار دیا ہے۔ (فتح الباری: ۱/ ۱۲۹)
یہ حدیث تمام اسلامی احکام کا ملجاو ماوی ہے، اس حدیث کا مسلمان کے ہر معاملے سے گہرا تعلق ہے، جب بھی کوئی اقدام کرنا چاہے یا بولنا چاہے تو اس کے نتائج اور فوائد پر غور کر لے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں ندامت ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 102
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن بشواهده ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 2886، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1737»