الفتح الربانی
كتاب التوبة— توبہ کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي كَيْفِيَّةِ التَّوْبَةِ وَمَا يَفْعَلُ مَنْ أَرَادَ انْ يَتُوْبَ باب: توبہ کی کیفیت اور اس چیز کا بیان کہ توبہ کا ارادہ کرنے والا کیا کرے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ مِنْ أَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ مَالِهِ فَلْيَتَحَلَّلْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ حِينَ لَا يَكُونُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ وَإِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَجُعِلَتْ عَلَيْهِ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی عزت یا مال (کے معاملے میں) ناانصافی کی ہو، وہ آج اس کے پاس جا کر اس سے معذرت کر لے، قبل اس کے کہ (وہ دن آ جائے جس میں) اس کا مؤاخذہ کیا جائے اور جہاں دینار ہو گا نہ درہم۔ (وہاں تو معاملہ یوں حل کیا جائے گا کہ) اگر اُس (ظالم) کے پاس نیکیاں ہوئیں تو اُس کے ظلم کے بقدر اس سے نیکیاں لے لی جائیں گی اور اگر اُس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں، تو (اس کے مظلوم) لوگوں کی برائیاں اُس پر ڈال دی جائیں گی۔
یہ اسلام ہی ہے، جس نے دوسرے مذاہب کی بہ نسبت احترامِ انسانیت کا سب سے زیادہ در س دیا ہے، یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ غریب و نادار عوام کو ظلم و ستم اور قہر و جبر کی چکی میں پیسنے والے وڈیروں کو متنبہ رہنا چاہئے کہ عنقریب ان کی گرفت کا وقت بھیآنے والا ہے، بس اِن ظالموں کو دی گئی مہلت کے اختتام کا انتظار ہے۔