الفتح الربانی
كتاب التوبة— توبہ کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي كَيْفِيَّةِ التَّوْبَةِ وَمَا يَفْعَلُ مَنْ أَرَادَ انْ يَتُوْبَ باب: توبہ کی کیفیت اور اس چیز کا بیان کہ توبہ کا ارادہ کرنے والا کیا کرے
حدیث نمبر: 10176
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَفَّارَةُ الذَّنْبِ النَّدَامَةُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ لِيَغْفِرَ لَهُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گناہ کا کفارہ ندامت ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ نہیں کرو گے، تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لے آئے گا، جو گناہ کرے گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بخشے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ہر انسان طبعی طور پر غلطی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے اور کسی وقت بھی اس سے کسی قسم کا گناہ سرزد ہو سکتا ہے اور یقینا ایسے ہی ہو گا، انبیاء کے بعد کوئی کس و ناکس عفت و عصمت کا دعوی نہیں کر سکتا ہے، ہر امتی کسی نہ کسی انداز میں کوئی نہ کوئی ٹھوکر ضرور کھائے گا۔ ان احادیث ِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کر کے اس پراصرار کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے تو بہ و استغفار کیا جائے، کیونکہیہ چیز اسے بہت پسند ہے اور اتنی پسند ہے کہ اگر ایسے لوگ ناپید ہو جائیں، کہ جن سے گناہ کا صدور ہی نہ ہوتو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا فرما دے گا جو گناہوں کے مرتکب ہونے کے بعد بخشش طلب کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے گا۔ اس کا یہ مطلب قطعا نہیں کہ وہ گناہوں کو پسند کرتا ہے اور گناہ گار اسے محبوب ہیں، بلکہ وہ تو بہ و انابت کو پسند فرماتا ہے اور ایسے ہی لوگ اسے محبوب ہیں اور یہی اس حدیث کا مفہوم ہے۔
قارئین کرام! انسانِ اوّل آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک کے انسان پر یہ نوبت نہیں آئی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی ایسی قوم کو فنا کر دیا ہو جو گناہ نہ کرتی ہو اور اس کی جگہ ایسے لوگ پیدا کر دیے ہوں، جو گناہ کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرتے ہوں اور وہ ان کو بخشتا ہو۔ کیونکہ سرے سے کوئی ایسی قوم پیدا ہی نہیں ہوئی، جو گناہ میں ملوث نہ ہوئی ہو۔ دراصل درج بالا احادیث میں اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی طلب کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر بہت زیادہ خوش ہوتا ہے جو گناہ کرکے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیتاہے۔ اس لیے اس حدیث سے یہ جرأت کسی کو نہیں ہونی چاہیے کہ وہ بے فکری کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کرنا شروع کر دے۔
قارئین کرام! انسانِ اوّل آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک کے انسان پر یہ نوبت نہیں آئی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی ایسی قوم کو فنا کر دیا ہو جو گناہ نہ کرتی ہو اور اس کی جگہ ایسے لوگ پیدا کر دیے ہوں، جو گناہ کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرتے ہوں اور وہ ان کو بخشتا ہو۔ کیونکہ سرے سے کوئی ایسی قوم پیدا ہی نہیں ہوئی، جو گناہ میں ملوث نہ ہوئی ہو۔ دراصل درج بالا احادیث میں اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی طلب کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر بہت زیادہ خوش ہوتا ہے جو گناہ کرکے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیتاہے۔ اس لیے اس حدیث سے یہ جرأت کسی کو نہیں ہونی چاہیے کہ وہ بے فکری کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کرنا شروع کر دے۔