حدیث نمبر: 10161
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَغَرِّ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُمْهِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنْزِلُ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَائِلٍ هَلْ مِنْ تَائِبٍ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ هَلْ مِنْ مُذْنِبٍ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ قَالَ نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ اغرّ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ پر گواہی دیتا ہوں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شہادت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر جاتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ (آسمان دنیا کی طرف) اترتا ہے اور کہتا ہے: کیا کوئی سوال کرنے والا ہے ؟ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ کیا کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے؟ کیا کوئی گنہگار ہے؟ ایک بندے نے کہا: طلوع فجر تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔

وضاحت:
فوائد: … جیسے اللہ تعالیٰ کی شان کو لائق ہے، وہ اس کے مطابق آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے، ہم اُس کے اِس نزول کو بلا تاویل تسلیم تو کریں گے، لیکن اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکیں گے کہ وہ کیسے اترتا ہے۔ تعالیٰ کے اِس نزول کا وقت کیاہے؟ اس کے بارے میں مختلف روایات منقول ہیں: صحیح مسلم کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایات کا خلاصہ یہ ہے: (۱) رات کے پہلے ایک تہائی کے بعد، (۲) نصف رات کے بعد یا دو تہائی رات کے بعد، (۳) رات کے آخری ایک تہائی حصے میں۔
قاضی عیاض نے کہا: مشائخ الحدیث کا خیال ہے کہ رات کے آخری ایک تہائی حصے والی بات زیادہ راجح ہے، زیادہ تر روایات کا یہی مفہوم بنتا ہے۔
لیکن اگر تمام صحیح روایات کو مختلف حالات پر محمول کر لیا جائے تو بہتر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوبة / حدیث: 10161
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 758 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11295 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11315»