الفتح الربانی
كتاب التوبة— توبہ کی کتاب
بَابُ فِي الأمْرِ بِالتَّوْبَةِ وَفَرْحِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ بِهَا بعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ باب: توبہ کے حکم اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اپنے مؤمن بندے سے خوش ہونے کا بیان
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَغَرِّ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُمْهِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنْزِلُ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَائِلٍ هَلْ مِنْ تَائِبٍ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ هَلْ مِنْ مُذْنِبٍ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ قَالَ نَعَمْ۔ اغرّ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ پر گواہی دیتا ہوں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شہادت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر جاتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ (آسمان دنیا کی طرف) اترتا ہے اور کہتا ہے: کیا کوئی سوال کرنے والا ہے ؟ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ کیا کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے؟ کیا کوئی گنہگار ہے؟ ایک بندے نے کہا: طلوع فجر تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
قاضی عیاض نے کہا: مشائخ الحدیث کا خیال ہے کہ رات کے آخری ایک تہائی حصے والی بات زیادہ راجح ہے، زیادہ تر روایات کا یہی مفہوم بنتا ہے۔
لیکن اگر تمام صحیح روایات کو مختلف حالات پر محمول کر لیا جائے تو بہتر ہے۔