حدیث نمبر: 10159
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا عَبْدِي مَا عَبَدْتَنِي وَرَجَوْتَنِي فَإِنِّي غَافِرٌ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ وَيَا عَبْدِي إِنْ لَقِيتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي لَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً)) الْحَدِيثَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے میرے بندے! جب تک تو میری عبادت کرتا رہے گا اور مجھ پر امید قائم رکھے گا تو میں تیرے ہر گناہ کو بخش دوں گا، وہ جو بھی ہو گا، اے میرے بندے! اگر تو زمین بھر گناہ لے کر مجھے ملے، تو میں ان ہی کے بقدر بخشش لے کر تجھے ملوں گا، بشرطیکہ تو نے میرے ساتھ شرک نہ کیا ہو، … … ۔ اس کے بعد سابقہ حدیث کی طرح ہے۔

وضاحت:
فوائد: … کوئی ایسا گناہ نہیں ہے، جو توبہ کے سامنے اپنا وجود برقرار رکھ سکے، توبہ سے ہر قسم کے گناہ راکھ ہو جاتے ہیں، بشرطیکہ توبہ سچی اور خالص ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوبة / حدیث: 10159
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2687، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21696»