حدیث نمبر: 10157
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنا ہاتھ رات کو پھیلا دیتا ہے، تاکہ دن کو برائیاں کرنے والا توبہ کر سکے اور پھر دن کو اپنا ہاتھ پھیلا دیتا ہے، تاکہ رات کو برائیاں کرنے والا توبہ کر سکے، یہ سلسلہ جاری رہے گا، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یَوْمَیَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْکَسَبَتْ فِیْٓ اِیْمَانِھَا خَیْرًا} … جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی۔ (سورۂ انعام: ۱۵۸)
اس آیت میں مذکورہ نشانی سے مراد مغرب سے سورج کا طلوع ہونا ہے، جب سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہو گا تو توبہ کا دروازنہ بند ہو جائے گا اور کسی کا ایمان لانا اس کو فائدہ نہیں دے گا۔
توبہ کے لیے کوئی وقت خاص نہیں ہے، کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ سے بخشش کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ بعض اوقات میں دعا جلد قبول ہو جاتی ہے، جیسے رات کا پچھلا پہر، سجدوں میں، اذان اور اقامت کا درمیانی وقفہ، جمعہ کے دن کی قبولیت والی گھڑی، وغیرہ وغیرہ۔
اس میں اس امر کی ترغیب ہے کہ رات یا دن کی جس گھڑی میں بھی گناہ ہو جائے انسان بلا تاخیر توبہ کے لیے بارگاہِ الہی میں جھک جائے۔ اللہ تعالیٰ اس قدر رحیم و شفیق ہے کہ وہ گنہگاروں کی توبہ کا منتظر رہتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوبة / حدیث: 10157
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2759، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19529 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19758»