حدیث نمبر: 10153
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةً سَوْدَاءَ فِي قَلْبِهِ فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِلَ قَلْبُهُ وَإِنْ زَادَ زَادَتْ حَتَّى يَعْلُوَ قَلْبَهُ ذَاكَ الرَّيْنُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ {كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مؤمن گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے ، اگر وہ توبہ کر لے اور بخشش طلب کرے تو دل میں چمک اور جلا پیدا ہو جاتی ہے، اور اگر مزید گناہ کرتا ہے تو نکتے بڑھتے چلے جاتے ہیں،یہاں تک کہ اس کے دل پر وہ زنگ چڑھ جاتا ہے، جس کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر کیا: ہر گز نہیں، بلکہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوبة / حدیث: 10153
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه ابن ماجه: 4244، والترمذي: 3334 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7939»