الفتح الربانی
كتاب التوبة— توبہ کی کتاب
بَابُ فِي الأمْرِ بِالتَّوْبَةِ وَفَرْحِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ بِهَا بعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ باب: توبہ کے حکم اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اپنے مؤمن بندے سے خوش ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 10151
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللَّهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَأَسْتَغْفِرُهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ)) فَقُلْتُ لَهُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَتُوبُ إِلَيْكَ اثْنَتَانِ أَمْ وَاحِدَةٌ فَقَالَ هُوَ ذَاكَ أَوْ نَحْوُ هَذَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ ، ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرو اور اس سے بخشش طلب کرو، پس بیشک میں ایک ایک دن میں سو سو بار اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہوں اور اس سے بخشش طلب کرتا ہوں۔ راوی نے کہا: اس دعا کو دو بار شمار کیا جائے گا یا ایک بار: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَغْفِرُکَ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَتُوْبُ اِلَیْکَ (اے اللہ! بیش میںتجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں، بیشک میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں)؟ انھوں نے کہا: یہ تو ایک بار ہی لگتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ استغفار کا لفظ اس جملے میں ایک بار ہے، اسی طرح توبہ کا لفظ بھی ایک بار ہے، اس لیے سو کی گنتی پوری کرنے کے لیے اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَغْفِرُکَ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَتُوْبُ اِلَیْکَ کے الفاظ سو بار کہنا پڑیں گے۔