حدیث نمبر: 10149
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَغَرَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ جھینہ قبیلے کا ایک آدمی اغر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکو بیان کرتا تھا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: لوگو! اپنے ربّ سے توبہ کیا کرو، پس بیشک میں ایک ایک دن میں سو سو بار اللہ کی طرف توبہ کرتا ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … اس میں تو بہ و استغفار کی ترغیب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو مغفور تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیے تھے، جو دراصل گناہ بھی نہ تھے، بلکہ حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَات الْمُقَرَّبِیْنَ کے مطابق خلافِ اَولی کام تھے، جنہیں گناہ سے تعبیر کیا گیا۔ تو پھر ہم عام لوگ کس طرح تو بہ و استغفار سے بے نیاز رہ سکتے ہیں جب کہ از فرق تابہ قدم (سر سے لے کر پاؤ ں تک) ہم گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ توبہ کی کثرت اور اس کا استمرار اس لیے بھی ضرور ی ہے تاکہ غیر شعوری کیفیت میں کیے گئے گناہ بھی معاف ہوتے رہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استغفار کیوں کیا کرتے تھے؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر ۵۶۲۹
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوبة / حدیث: 10149
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17850 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18004»