الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْي عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ وَتَقْبِيحِهِ وَالْوَسمِ فِيهِ باب: چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 10148
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لَطْمِ خُدُودِ الدَّوَابِّ وَقَالَ ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ جَعَلَ لَكُمْ عَصِيًّا وَسِيَاطًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانوروں کے رخساروں پر مارنے سے منع کیا اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے استعمال کے لیے لاٹھیاں اور کوڑے بنائے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ تم سزا دیتے وقت لاٹھیوں اور کوڑوں پر اکتفا کیوں نہیںکرتے کہ ہاتھوں سے چہروں پر مارنا شروع کر دیتے ہو۔