الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْي عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ وَتَقْبِيحِهِ وَالْوَسمِ فِيهِ باب: چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 10147
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَلَا مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ دَعُوا الْكَسْعَةَ فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مہاجر آدمی نے ایک انصاری آدمی کی دُبُر پر ہاتھ یا پاؤں مارا (اور اس وجہ سے لڑائی ہو گئی)، انصاری نے آواز دی: او انصاریو! مہاجر نے آواز لگائی: او مہاجرو!، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جاہلیت والی پکار پکارنے کی کیا وجہ ہے، اس طرح کی شرارتیں چھوڑ دو، یہ قابل مذمت ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … مہاجرین اور انصار اچھے لقب ہیں،یہ القاب شریعت ِ اسلامیہ کے منتخب ہیں، لیکن جب ان کو غلط جگہ پر استعمال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ناپسند کیا۔