الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْي عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ وَتَقْبِيحِهِ وَالْوَسمِ فِيهِ باب: چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 10146
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
وضاحت:
فوائد: … لوگ لڑائی جھگڑے میں جذبات میں آکر ان فرمودات ِ نبویہ کو بھول جاتے ہیں اور مد مقابل کو جیسے ضرب لگانا آسان ہو، لگاتے ہیں، اگرچہ وہ چہرے پر تھپڑ اور مُکّا مارنے کی صورت میں ہو۔ ایسا کرنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکم عدولی ہے۔