حدیث نمبر: 10139
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ثَنَا صَالِحُ بْنُ سُفْيَانَ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ كَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ أَبِي قَالَ أَبُو النَّضْرِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ عَنْ سَبِّ الدِّيكِ وَقَالَ إِنَّهُ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مرغ کو برا بھلا نہ کہا کرو، کیونکہ وہ نماز کے لیے بلاتا ہے۔ ابو نضر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرغ کو گالی دینے سے منع کیا اور فرمایا: یہ نماز کے لیے گویا اذان دیتا ہے ۔

وضاحت:
فوائد: … نماز کے لیے اذان دینے سے مراد یہ ہے کہ مرغ عام طور پر طلوعِ فجر اور زوال کے وقت آواز نکالتاہے، اس سے لوگوں کو نماز فجر اور نماز ظہر کا احساس ہو جاتا ہے، بہرحال مرغ کی آواز کے بعد نماز کے وقت کییقین دہانی کرنا ضروری ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10139
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث رقم (10125 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22019»