حدیث نمبر: 10138
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِنَّهَا مِنْ رُوحِ اللَّهِ) فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا مَا تَكْرَهُونَ فَقُولُوا اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ وَمِنْ خَيْرِ مَا فِيهَا وَمِنْ خَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّيحِ وَمِنْ شَرِّ مَا فِيهَا وَمِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہوا کو برا بھلا نہ کہا کرو، کیونکہ اس کی اصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، پس جب تم ہوا میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو تو یہ دعا پڑھو: اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِ ھٰذِہِ الرِّیْحِ وَمِنْ خَیْرِ مَا فِیْھَا، وَمِنْ خَیْرِ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ،وَنَعُوْذُبِکَمِنْشَرِّھٰذِہِالرِّیْحِ وَمِنْ شَرِّ مَافِیْھَا، وَمِنْ شَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ۔ (اےاللہ! بے شک ہم تجھ سے اس ہوا کی بھلائی کا، اس میں موجود بھلائی کا اور اس خیر کا سوال کرتے ہیں، جس کے ساتھ اس کو بھیجا گیا اور اس ہوا کے شرّ سے، اس میں موجود شرّ سے اور اس شرّ سے پناہ مانگتے ہیں، جس کے ساتھ اس کو بھیجا گیا۔

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا چلتی ہے، اس میں پائی جانے والی خیر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس میں پائے جانے والا شرّ کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کی جس مخلوق میں خیر اور شرّ، دونوں کے عناصر پائے جاتے ہوں، اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کرنا چاہیے اور اس کے شرّ سے پناہ مانگنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10138
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه النسائي في عمل اليوم والليلة : 935 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21138 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21456»