حدیث نمبر: 10137
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَقُولُ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنِّي أَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ فَإِنْ شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کہتا ہے: ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے، وہ کہتا ہے : اے زمانے کی ناکامی! جبکہ میں زمانہ ہوں، دن رات کو الٹ پلٹ کرتا ہوں اور اگر چاہوں تو ان دونوں کو قبض کر لوں۔

وضاحت:
فوائد: … عربوں کی عادت تھی کہ وہ زمانے کی مذمت کرتے تھے اور نوازل و حوادث کے وقت اسی کو برا بھلا کہتے تھے اور اپنے شعروں میں بھی اس چیز کا بہت زیادہ ذکر کرتے تھے، کیونکہ ان کا نظریہیہ تھا کہ یہ سب کچھ زمانے کا ہیر پھیر ہے اور وہی مصائب سے دوچار کرتا ہے، لیکن در حقیقتیہ فاعل کو برا بھلا کہنا تھا اور ہر چیز کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَقَالُوْا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَآ اِلَّا الدَّہْرُ وَمَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ اِنْ ہُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ۔} … اور انھوں نے کہا ہماری اس دنیا کی زندگی کے سوا کوئی(زندگی) نہیں، ہم (یہیں) جیتے اور مرتے ہیں اور ہمیں زمانے کے سوا کوئی ہلاک نہیں کرتا، حالانکہ انھیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں، وہ محض گمان کر رہے ہیں۔ (سورۂ جاثیہ: ۲۴)
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میںکہا: دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے، کچھ جیتے ہیں، کچھ مرتے ہیں، قیامت کوئی چیز نہیں، فلاسفہ اور علم کلام
کے قائل یہی کہتے تھے۔ یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو لوگ دہریہ اور دوریہ تھے، وہ خالق کے بھی منکر تھے، ان کا خیال تھا کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد زمانے کا ایک دور ختم ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آجاتی ہے اور ایسے کئیادوار کے وہ قائل تھے۔ دراصل یہ معقول سے بھی بیکار جھگڑتے تھے اور منقول سے بھی روگردانی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گردش زمانہ ہی ہلاک کرنے والی چیز ہے، نہ کہ اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نظریے کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور بجز و ہم و خیال کے کوئی سند وہ پیش نہیں کر سکتے
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10137
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2246 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7669»