الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْتَرْهِيْبِ مِنْ سَبِّ الْمُسْلِمِ وَقِتَالِهِ وَأَنَّ إِثْمَ ذَلِكَ عَلَى الْبَادِيءِ مَالَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ باب: مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَبَّ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَهُ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ الْمَسْبُوبُ يَقُولُ عَلَيْكَ السَّلَامُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّ مَلَكًا بَيْنَكُمَا يَذُبُّ عَنْكَ كُلَّمَا شَتَمَكَ هَذَا قَالَ لَهُ بَلْ أَنْتَ وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهِ وَإِذَا قَالَ لَهُ عَلَيْكَ السَّلَامُ قَالَ لَا بَلْ لَكَ أَنْتَ أَحَقُّ بِهِ۔ سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو برا بھلا کہا، جبکہ اس نے جواباً کہا: تجھ پر سلامتی ہو، یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! بیشک تمہارے درمیان ایک فرشتہ ہے، جو تیری طرف سے دفاع کرتا ہے، وہ آدمی جب بھی تجھے برا بھلا کہتا ہے تو وہ فرشتہ اس کو کہتا ہے: بلکہ وہ تو خود ہے اور تو ہی اس گالی کا زیادہ حقدار ہے، اور جب مظلوم کہتا ہے: تجھ پر سلامتی ہو، تو فرشتہ کہتا ہے: نہیں، بلکہ یہ سلامتی تیرے لیے ہے اور تو خود ہی اس کا زیادہ مستحق ہے۔