حدیث نمبر: 10133
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَبَّ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَهُ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ الْمَسْبُوبُ يَقُولُ عَلَيْكَ السَّلَامُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّ مَلَكًا بَيْنَكُمَا يَذُبُّ عَنْكَ كُلَّمَا شَتَمَكَ هَذَا قَالَ لَهُ بَلْ أَنْتَ وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهِ وَإِذَا قَالَ لَهُ عَلَيْكَ السَّلَامُ قَالَ لَا بَلْ لَكَ أَنْتَ أَحَقُّ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو برا بھلا کہا، جبکہ اس نے جواباً کہا: تجھ پر سلامتی ہو، یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! بیشک تمہارے درمیان ایک فرشتہ ہے، جو تیری طرف سے دفاع کرتا ہے، وہ آدمی جب بھی تجھے برا بھلا کہتا ہے تو وہ فرشتہ اس کو کہتا ہے: بلکہ وہ تو خود ہے اور تو ہی اس گالی کا زیادہ حقدار ہے، اور جب مظلوم کہتا ہے: تجھ پر سلامتی ہو، تو فرشتہ کہتا ہے: نہیں، بلکہ یہ سلامتی تیرے لیے ہے اور تو خود ہی اس کا زیادہ مستحق ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10133
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24146»