حدیث نمبر: 10130
عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي يَشْتُمُنِي وَهُوَ دُونِي عَلَيَّ بَأْسٌ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهُ قَالَ الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَهَاذَيَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ (وَفِي لَفْظٍ) يَتَكَاذَبَانِ وَيَتَهَاتَرَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میری قوم کا ایک آدمی مجھے برا بھلا کہتا ہے، جبکہ وہ مجھ سے کم مرتبہ آدمی ہے، اب اگر میں اس سے انتقام لوں تو کیا مجھ پر کوئی حرج ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گالی گلوچ کرنے والے دو افراد شیطان ہیں، وہ بیہودہ باتیں کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: وہ جھوٹ بولتے ہیں اور ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … جھگڑا ایک ایسا شیطانی معاملہ ہے کہ جو بڑھتا چلا جاتا ہے، ایک بہن کی سناتا ہے، دوسرا ماں کی سنا دیتا ہے، ایک تھپڑ مارتا ہے، دوسرا پتھر پھینک دیتاہے، ایک دو سناتا ہے، دوسرا چار سناتا ہے، جھگڑا رکنے کا نام نہیں لیتا، قتل اور بڑی بڑی زیادتیوں جیسے جرائم کی ابتدا جھگڑے سے ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10130
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن حبان: 5726، والطبراني في الكبير : 17/ 1001، والطيالسي: 1080 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17622»