الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْتَرْهِيْبِ مِنْ سَبِّ الْمُسْلِمِ وَقِتَالِهِ وَأَنَّ إِثْمَ ذَلِكَ عَلَى الْبَادِيءِ مَالَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ باب: مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
حدیث نمبر: 10128
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہیں گے، سارا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہیں کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو افراد کے جھگڑے کا گناہ ابتدا کرنے والے کے کھاتے میں جائے گا، کیونکہ وہ اس برائی کا سبب بنا ہے، ہاں جب مظلوم ظالم سے بڑھ کر زیادتی کرے گا تو وہ اپنی زیادتی کا خود ذمہ دار ہو گا، مظلوم کو انتقام لینے کا حق تو ہے، لیکن ضروری ہے کہ وہ انتقام اس ظلم سے بڑھ کر نہ ہو، جس اس پر کیا گیا، وگرنہ مظلوم بھی ظالم قرار پائے گا۔