حدیث نمبر: 10125
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَعَنَ رَجُلٌ دِيكًا صَاحَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَلْعَنْهُ فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرغ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آواز نکالی، ایک آدمی نے اس وجہ سے اس پر لعنت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اس پر لعنت نہ کر، بیشک یہ نماز کے لیے بلاتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … جو چیز اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر معاون ہو، وہ مدح کی مستحق ہوتی ہے، نہ مذمت کی۔
سنن ابوداود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((لَاتَسُبُّوا الدِّیْکَ فَاِنَّہُ یُوْقِظُ لِلصَّلاَ ۃِ۔)) … مرغ کو گالی نہ دیا کرو، کیونکہیہ نماز کے لیے جگاتاہے۔
عام تجربہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرغ کے اندر جو فطرت ودیعت رکھی ہے، اس کی وجہ سے وہ فجر سے پہلے اور زوال کے وقت لگاتار آواز نکالنا شروع کر دیتا ہے، اس طرح سے نمازِ فجر اور نمازِ ظہر کے وقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، بہرحال یہ ایک علامت ہے، اس کے بعد وقت کی تحقیق کرنا ضروری ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10125
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح بلفظ ابي داود ، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 5101 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17160»