الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
باب مَا جَاءَ فِي لَعْنِ الْإِبِلِ وَالدِّيْكَةِ باب: اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 10124
عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَعَنَتْ بَعِيرًا لَهَا فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَدَّ وَقَالَ لَا يَصْحَبُنِي شَيْءٌ مَلْعُونٌ (وَفِي رِوَايَةٍ) فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَرْكَبِيهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، انھوں نے اپنے اونٹ پر لعنت کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اس اونٹ کو ردّ کر دیا جائے اور فرمایا: ہمارے ساتھ کوئی چیز نہ چلے، جس پر لعنت کی گئی ہے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب اس پر سوار نہ ہو۔