حدیث نمبر: 10120
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الطُّفَيْلِ فَوَجَدْتُهُ طَيِّبَ النَّفْسِ فَقُلْتُ لَا أَغْتَنِمَنَّ ذَلِكَ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ النَّفَرُ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِهِمْ مَنْ هُمْ فَهَمَّ أَنْ يُخْبِرَنِي بِهِمْ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ سَوْدَةُ مَهْ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّمَا عَبْدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ دَعَوْتُ عَلَيْهِ دَعْوَةً فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ اے اللہ! بیشک کچھ لوگ میرے پیچھے چلے، جبکہ میں یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے پیچھے چلیں، اے اللہ! پس میں نے جس آدمی کو مارا یا برا بھلا کہا تو تو اس چیز کو اس کے لیے کفارے، اجر، بخشش اور رحمت کا باعث قرار دے۔ یا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مسلمان کے حق میں بددعائیہ کلمات کہہ دیں تو وہ اس کے حق میں رحمت ثابت ہوں گے، رحمۃ للعالمین ہوں تو ایسے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10120
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط : 2330 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24203»