الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ أَوْ سَبَهُ أَوْ دَعَا عَلَيْهِ وَلَيْسَ هُوَ اهْلُ لِذَلِكَ كَانَ لَهُ زَكَاةٌ وَأَجْرٌ وَرَحْمَةٌ باب: اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
حدیث نمبر: 10120
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الطُّفَيْلِ فَوَجَدْتُهُ طَيِّبَ النَّفْسِ فَقُلْتُ لَا أَغْتَنِمَنَّ ذَلِكَ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ النَّفَرُ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِهِمْ مَنْ هُمْ فَهَمَّ أَنْ يُخْبِرَنِي بِهِمْ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ سَوْدَةُ مَهْ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّمَا عَبْدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ دَعَوْتُ عَلَيْهِ دَعْوَةً فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةًترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ اے اللہ! بیشک کچھ لوگ میرے پیچھے چلے، جبکہ میں یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے پیچھے چلیں، اے اللہ! پس میں نے جس آدمی کو مارا یا برا بھلا کہا تو تو اس چیز کو اس کے لیے کفارے، اجر، بخشش اور رحمت کا باعث قرار دے۔ یا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مسلمان کے حق میں بددعائیہ کلمات کہہ دیں تو وہ اس کے حق میں رحمت ثابت ہوں گے، رحمۃ للعالمین ہوں تو ایسے۔