الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ أَوْ سَبَهُ أَوْ دَعَا عَلَيْهِ وَلَيْسَ هُوَ اهْلُ لِذَلِكَ كَانَ لَهُ زَكَاةٌ وَأَجْرٌ وَرَحْمَةٌ باب: اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَأَغْلَظَ لَهُمَا وَسَبَّهُمَا قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمَنْ أَصَابَ مِنْكَ خَيْرًا مَا أَصَابَ هَذَانِ مِنْكَ خَيْرًا قَالَتْ فَقَالَ أَوَمَا عَلِمْتِ مَا عَهِدْتُ عَلَيْهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ مَغْفِرَةً وَعَافِيَةً وَكَذَا وَكَذَا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر خوب سختی کی اور برا بھلا کہا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس نے آپ کی طرف سے خیر پائی (یہ تو ٹھیک ہے) لیکن ان بیچاروں کو آپ کی طرف سے کوئی خیر نہیں ملی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ تعالیٰ سے جو معاہدہ کیا ہے، کیا تو اس کو نہیں جانتی، میں نے اپنے ربّ سے کہا: اے اللہ! میں نے جس مؤمن کو برا بھلا کہا، یا کوڑے لگائے، یا لعنت کی تو تو اس کو اس کے حق میں بخشش اور عافیت کا سبب قرار دے۔