حدیث نمبر: 10117
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَأَغْلَظَ لَهُمَا وَسَبَّهُمَا قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمَنْ أَصَابَ مِنْكَ خَيْرًا مَا أَصَابَ هَذَانِ مِنْكَ خَيْرًا قَالَتْ فَقَالَ أَوَمَا عَلِمْتِ مَا عَهِدْتُ عَلَيْهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ مَغْفِرَةً وَعَافِيَةً وَكَذَا وَكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر خوب سختی کی اور برا بھلا کہا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس نے آپ کی طرف سے خیر پائی (یہ تو ٹھیک ہے) لیکن ان بیچاروں کو آپ کی طرف سے کوئی خیر نہیں ملی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ تعالیٰ سے جو معاہدہ کیا ہے، کیا تو اس کو نہیں جانتی، میں نے اپنے ربّ سے کہا: اے اللہ! میں نے جس مؤمن کو برا بھلا کہا، یا کوڑے لگائے، یا لعنت کی تو تو اس کو اس کے حق میں بخشش اور عافیت کا سبب قرار دے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10117
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2600 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24682»