الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ أَوْ سَبَهُ أَوْ دَعَا عَلَيْهِ وَلَيْسَ هُوَ اهْلُ لِذَلِكَ كَانَ لَهُ زَكَاةٌ وَأَجْرٌ وَرَحْمَةٌ باب: اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
حدیث نمبر: 10115
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَبَسَطَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ ضَرَبْتُ أَوْ آذَيْتُ فَلَا تُعَاقِبْنِي بِهِ قَالَ بِهَزَفِيهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چادر اور ازار پہنا ہوا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور یہ دعا کی: اے اللہ! میں ایک بشر ہوں، پس میں تیرے جس بندے کو ماروں یا تکلیف دوں تو تو نے اس کی وجہ سے مجھے سزا نہیں دینی۔