حدیث نمبر: 10111
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تجھ سے ایک معاہدہ لیتا ہوں، تو نے ہر گز اس کی مخالفت نہیں کرنی، میں صرف اور صرف ایک بشر ہوں، پس جس مؤمن کو میں تکلیف دوں، یا اس کو گالی دوں، یا اس کو کوڑے لگاؤں، یا اس پر لعنت کروں، پس تو اس چیز کو اس کے لیے رحمت، پاکیزگی اور تقرب کا ایسا سبب بنا کہ جس کے ذریعے تو اس کو قیامت کے دن اپنے قریب کر لے ۔

وضاحت:
فوائد: … کتنی دلچسپ بات ہے کہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بددعائیں بھی دوسروں کے لیے باعث ِ تزکیہ و طہارت اور باعث ِ اجر و ثواب بن جاتی ہیں،یہ دراصل رحمۃ للعالمین کا لقب پانے والے کی عظمت و منقبت ہے، امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس موضوع سے متعلقہ ایک حدیث پر یہ باب قائم کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی پر لعنت کریںیا کسی کو گالی اور بدعا دیں اور وہ اس کا اہل نہ ہو، تو یہ اس کے لیے تزکیہ، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10111
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 338، وابويعلي: 1262 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11290 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11310»