الفتح الربانی
كتاب المدح والدم— تعریف اور مذمت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ ﷺ باب: ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
حدیث نمبر: 10107
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ رَجُلَيْنِ يَتَغَنَّيَانِ وَأَحَدُهُمَا يُجِيبُ الْآخَرَ وَهُوَ يَقُولُ لَا يَزَالُ حَوَارِيُّ تَلُوحُ عِظَامُهُ زَوَى الْحَرْبَ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوا مَنْ هُمَا قَالَ فَقَالُوا فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ ارْكُسْهُمَا رَكْسًا وَدُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میرے ابو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کپڑے پہننے کے لیے چلے گئے، تاکہ مجھے مل سکیں، ابھی تک ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہی تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ملعون شخص تم پر ضرور ضرور داخل ہونے والا ہے۔ پس اللہ کی قسم! میں خوفزدہ ہو کر آنے جانے والوں کو دیکھنے لگا، یہاں تک کہ حکم داخل ہوا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حکم بن ابی العاص تھا، یہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا چچا اور مروان کا باپ تھا، یہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوا اور پھر مدینہ منورہ میںسکونت اختیار کی،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو طائف کی طرف بھیج دیا، پھر یہ وہیں رہا، یہاں تک کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں اس کو مدینہ میں بلا لیا، پھر یہیں اس نے وفات پائی۔ ابن اثیر نے اسد الغابہ میں کہا: حکم بن ابی العاص پر لعنت کرنے اور اس کو جلاوطن کرنے سے متعلقہ کافی ساری احادیث ہیں، ان سب کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بہرحال یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی امرِ عظیم کی وجہ سے ایسے کیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بردبار اور چشم پوش تھے۔