حدیث نمبر: 10102
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْنَا لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ يَعْنِي الْمَنَارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو طفیل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں اس چیز کے بارے میں بتلاؤ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف آپ کوعطا کی ہو، انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کوئی ایسی راز کی بات نہیں بتلائی، جس کو لوگوں سے چھپایا ہو، البتہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے بدعتی کو جگہ دی، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے اپنے والدین پر لعنت کی اور اللہ تعالیٰ اس پر بھی لعنت کرے، جس نے زمین کے نشانات کو بدل دیا۔

وضاحت:
فوائد: … جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اورہستی (پیر، پیغمبر، نبی، قطب، ابدال، نیک صالح اور بزرگ وغیرہ) کے لیے، ان کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر جانور ذبح کرتا ہے، وہ ملعون ہے۔
نشانات کو بدلنے سے کیا مراد ہے؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۰۱۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10102
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1978 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 855»