حدیث نمبر: 10101
عَنْ أَبِي حَسَّانَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالْأَمْرِ فَيُؤْتَى فَيُقَالُ قَدْ فَعَلْنَا كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْأَشْتَرُ إِنَّ هَذَا الَّذِي تَقُولُ قَدْ تَفَشَّى فِي النَّاسِ أَفَشَيْءٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا خَاصَّةً دُونَ النَّاسِ إِلَّا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْهُ فَهُوَ فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي قَالَ فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ قَالَ فَإِذَا فِيهَا مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ قَالَ وَإِذَا فِيهَا إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو حسان سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب کوئی حکم دیتے اور اس کو پورا کر کے کہا جاتا کہ ہم لوگوں نے فلاں فلاں کام کر دیا ہے، تو وہ کہتے: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے، اشتر نے ان سے کہا: آپ کی یہ بات لوگوں میں مشہور ہو گئی ہے، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو اس کے بارے میں کوئی وصیت کی تھی؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی ایسی خاص چیز کی وصیت نہیں کی، جو دوسرے لوگوں کو نہ کی ہو، ما سوائے اس چیز کے، جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اور وہ میری تلوار کے میان میں موجود صحیفے میں ہے۔ یہ سن کر لوگوں نے اصرار کرنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ انھوں نے صحیفہ نکالا، اس میں یہ لکھا ہوا تھا: جس نے بدعت ایجاد کی،یا کسی بدعتی کو جگہ دی، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور اس کی فرضی عبادت قبول ہو گی نہ نفلی۔ اس میں مزیدیہ حدیث بھی تھی: بیشک ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا … ۔

وضاحت:
فوائد: … بدعت ہر اعتبار سے ضلالت ہے اور بدعتی انسان کا اکرام کرنا، اس کا دفاع کرنا اور اس کی پشت پناہی کرنا بہت بڑا شرعی ظلم ہے۔ اس میں ان حضرات کے لیے لمحۂ فکریہ ہے جو مجرموں کو تحفظ دیتے ہیں کہ وہ جھوٹی ناموری کے لیے لعنت اور پھٹکار کے مستحق ٹھہرتے ہیں،بالخصوص عصر حاضر کے سیاسی لوگ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10101
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه مختصرا ابوداود: 2035، والنسائي: 8/ 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 959»