حدیث نمبر: 10100
عَنْهُ أَيْضًا رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ وَمَنْ شَهِدَ عَلَى مُسْلِمٍ)) أَوْ قَالَ ((مُؤْمِنٍ بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَتْلِهِ وَمَنْ لَعَنَهُ فَهُوَ كَقَتْلِهِ وَمَنْ حَلَفَ عَلَى مِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا حَلَفَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ثابت بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جس چیز کے ساتھ خود کشی کی، اس کو اسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جائے گا، جس نے کسی مؤمن اور مسلمان پر کفر کی گواہی دی تو یہ اس کو قتل کرنے کی طرح ہو گا، جس نے اس پر لعنت کی تو وہ بھی اس کو قتل کرنے کی طرح ہو گا اور جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر جھوٹی قسم اٹھائی تو وہ اسی طرح ہی ہو جائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ آدمییوں کہے: اگر میں نے فلاں کام کیا ہو یا کروں تو میں یہودییا عیسائی ہو جاؤں، جبکہ وہ جھوٹا بھی ہو، اسلام کے علاوہ کسی مذہب کا ذکر ہو سکتا ہے۔
یہ قسم کی ممنوعہ صورت ہے اور اس حدیث میں اس کی بڑی وعید بیان کی گئی ہے۔
حافظ ابن حجر نے کہا: بعض شافعیہ نے حدیث کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے ایسے شخص کوکافرقرار دیا، جبکہ وہ جھوٹا ہو، لیکن تحقیقیہ ہے کہ اس معاملے میں تفصیل بیان کی جائے، اگر اس کا مقصود اس مذہب کی تعظیم ہو تو وہ کافر ہو جائے گا، اور اگر اس کا مقصود بات کو معلق کرنا ہو تو غور کیا جائے گا کہ آیا اس نے اس مذہب کے ساتھ متصف ہونے کا ارادہ کیا ہے، اگر کیا ہے تو کافر ہو جائے گا، کیونکہ کفر کا ارادہ کفر ہے، لیکن اگر اس کا ارادہ اس مذہب سے دور رہنے کا ہو تو وہ کافر نہیں ہو گا۔
بعض روایات میں کَاذِبًا (جھوٹا) کی قید ہے اور بعض میں نہیں ہے، آگے چل کر حافظ صاحب نے کہا: کَاذِبًا مُتَعَمِّدًا کے الفاظ کی زیادتی حسن درجے کی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ایسا آدمی اپنے ایمان پر مطمئن ہو تو وہ ایسی چیز کی تعظیم کرنے میں جھوٹا قرار پائے گا، جو تعظیم والی نہیں ہے، ایسی صورت میں وہ کافر نہیں ہو گا، لیکن اگر اس کا نظریہیہ ہے کہ وہ اپنی قسم میں جس مذہب کا ذکر کر رہا ہے، وہ حق ہے، تو وہ کافر ہو جائے گا اور اگر اس کا اس قسم سے مقصود اس مذہب کی تعظیم ہو تو احتمال پیدا ہو جائے گا، تو پھر تفصیل کی ضرورت ہو گی، اگر اس کا مقصد وہ تعظیم ہے، جو منسوخ ہو جانے سے پہلے اس مذہب کی تھی تو یہ خطرناک ہے اور اس کے کافر ہونے کا احتمال ہے۔ (فتح الباری: ۱۱/ ۵۳۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب المدح والدم / حدیث: 10100
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16505»