حدیث نمبر: 101
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَاءَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَإِنْ كُنْتَ تَرَى هَذِهِ مُؤْمِنَةً أَعْتِقْهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَتُؤْمِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَعْتِقْهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیاہ رنگ کی ایک لونڈی لے کر آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے ایک مسلمان گردن آزاد کرنی ہے، اب اگر آپ اس لونڈی کو مومنہ خیال کرتے ہیں تو اس کو آزاد کر دیں،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تو یہ گواہی دیتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کیا تو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان رکھتی ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو آزاد کر دے۔“

وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسین حکیمانہ انداز تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موقع محل کو دیکھ کر اور متعلقہ آدمی کے مزاج کو سامنے رکھ سوال کرتے تھے، اس حدیث میں رسالت اور آخرت کے بارے میں پوچھا ہے، جبکہ سابقہ حدیث میں اللہ تعالیٰ اور اپنی ذات کے بارے میں سوال کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 101
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه مالك في المؤطا : 2/ 777، والبيھقي: 10/ 57، وعبد الرزاق: 16814، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15835»