الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بابٌ فِي خِصَالِ الإِيمَانِ وَآيَاتِهِ باب: ایمان کی خصلتوں اور اس کی نشانیوں کا بیان
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَاءَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَإِنْ كُنْتَ تَرَى هَذِهِ مُؤْمِنَةً أَعْتِقْهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَتُؤْمِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَعْتِقْهَا))ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیاہ رنگ کی ایک لونڈی لے کر آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے ایک مسلمان گردن آزاد کرنی ہے، اب اگر آپ اس لونڈی کو مومنہ خیال کرتے ہیں تو اس کو آزاد کر دیں،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تو یہ گواہی دیتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کیا تو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان رکھتی ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو آزاد کر دے۔“